تب ہی تسکینِ جان ہوتی ہے

تب ہی تسکینِ جان ہوتی ہے

نعت جب مجھ کو دان ہوتی ہے

 

عاشقوں کے لیے مدینے کی

دھوپ بھی سائبان ہوتی ہے

 

شہرِ طیبہ کی پاک گلیوں میں

زندگی مہربان ہوتی ہے

 

میرے افکار کے پرندے کی

اُن کی جانب اڑان ہوتی ہے

 

راہِ مدحت ہے احتیاط کرو

ہر گھڑی امتحان ہوتی ہے

 

بس حقیقت ہے آپ کی عظمت

باقی سب داستان ہوتی ہے

 

ذکرِ صلِّ علیٰ کی برکت سے

میرے لہجے میں جان ہوتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ