تجھے خود سے نکالا ہے

تجھے خود سے نکالا ہے

تجھے محسوس کرنے کے لیے

میں نے ہزاروں کام چھوڑے ہیں

نہ جانے پھر بھی کیوں

مجھ کو لگا یہ سب خسارہ ہے

مجھے تیری محبت ڈھونگ لگتی ہے

ترے وعدے بھی لگتا ہے

کہ اک صدیوں پرانا خط

کسی شوکیس میں رکھا اُٹھاؤں

دھول مٹی صاف کر کے کھولنے بیٹھوں

لفافے سے نکالوں اور میرے ہاتھ لگنے سے

وہ کاغذ پھٹتا جاتا ہے

مکمل طور پر تو پھٹ کے چور و چور ہو جائے

سو اس سے قبل میں نے سب پرانے خط جلائے ہیں

ترے وعدے بھلائے ہیں

تجھے خود سے نکالا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اسکاٹ لینڈ
چلو اداسی کے پار جائیں
بحضورِ ماجد
زنانِ مصر
میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے
جاگنے پر سبھی منظر ہوئے ریزہ ریزہ
بے بسی کے شہر میں ہم زندگی سے تنگ ہیں
!آبرودار دربدر، سائیں
وہی بالوں میں دو چُٹیاں، وہی اک ہاتھ میں اِملی
گِھر گِھر آئے پگلے بادل ، برسی میگھا سانوری