اردوئے معلیٰ

Search

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

زخم دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا

 

میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا

اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا

 

تو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے

میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا

 

تو نے کتنوں کو نچایا ہے اشاروں پہ مگر

میں نے اے عشق! یہ مجرا نہیں ہونے دینا

 

اس نے کھائی ہے قسم پھر سے مجھے بھولنے کی

میں نے اس بار بھی ایسا نہیں ہونے دینا

 

زندگی میں تو تجھے چھوڑ ہی دیتا لیکن

پھر یہ سوچا تجھے بیوہ نہیں ہونے دینا

 

مذہب عشق کوئی چھوڑ مرے تو میں نے

ایسے مرتد کا جنازہ نہیں ہونے دینا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ