تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

زخم دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا

 

میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا

اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا

 

تو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے

میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا

 

تو نے کتنوں کو نچایا ہے اشاروں پہ مگر

میں نے اے عشق! یہ مجرا نہیں ہونے دینا

 

اس نے کھائی ہے قسم پھر سے مجھے بھولنے کی

میں نے اس بار بھی ایسا نہیں ہونے دینا

 

زندگی میں تو تجھے چھوڑ ہی دیتا لیکن

پھر یہ سوچا تجھے بیوہ نہیں ہونے دینا

 

مذہب عشق کوئی چھوڑ مرے تو میں نے

ایسے مرتد کا جنازہ نہیں ہونے دینا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
ہمارا حق کبھی دیا، کبھی نہیں دیا گیا
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
ہوا،صحرا،سمندر اور پانی،زندگانی
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں

اشتہارات