اردوئے معلیٰ

تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں

کس طور سے لٹتی ہوئی جاگیر سنبھالوں

 

جھنکار کی آواز بھی ہے جرم ، سو اب میں

پازیب کبھی ، حلقہ زنجیر سنبھالوں

 

تو کون ہے قاتل کہ مسیحا ہے کُھلے تو

میں کاسہ امید کہ شمشیر سنبھالوں

 

ٹھہرا ہو رسومات کو جب عجز بھی زلت

دستار سنبھالوں کہ دساتیر سنبھالوں

 

اب سینہ صد چاک میں ُرکتا ہی نہیں کچھ

دل اور عطا ہو کہ ترے تیر سنبھالوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات