اردوئے معلیٰ

Search

تدبیر ہی الگ ہے، تعبیر ہی الگ ہے

ان کے کرم سے اپنی تقدیر ہی الگ ہے

 

خورشید کی ضیا بھی کیا خوب ہے، بجا ہے

پر نورِ مصطفی کی تنویر ہی الگ ہے

 

عشاقِ مصطفی ہیں سب قابلِ ستائش

مداحِ مصطفی کی توقیر ہی الگ ہے

 

دیکھی ہے جب بھی میں نے ٹھنڈی ہوئیں ہیں آنکھیں

آقا کے نقشِ پا کی تصویر ہی الگ ہے

 

مجھ کو ہر اک قدم پر یہ سرخرو کرے گا

نامِ نبی کی آصف تاثیر ہی الگ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ