اردوئے معلیٰ

ترا کرم بھی حقیقت ہے جانِ حرف ، مگر

ترا کرم بھی حقیقت ہے جانِ حرف ، مگر

سخن عطاء ہے ، کوئی اکتساب تھوڑی ہے

 

ہزار پشت سے اجداد نے وراثت میں

نظر میں برق ، تو ہونٹوں پہ پیاس چھوڑی ہے

 

ترے حضور کھڑے ہیں ، تو اتفاق نہیں

کہ ساربانِ ازل نے مہار موڑی ہے

 

عجیب سنگ نما ، خار خار منظر تھے

جنہوں نے چشمِ تحیر بدوش پھوڑی ہے

 

دلِ تباہ نے ، خواہش کا پیٹ کاٹ کے بھی

تمام عمر متاعِ شکست جوڑی ہے

 

سکوت ہے کہ چٹخنے لگا سماعت میں

نوا طراز نے یکلخت تان توڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ