اردوئے معلیٰ

ترکِ تعلقات کا وعدہ نہ کر سکیں

ترکِ تعلقات کا وعدہ نہ کر سکیں

چاہیں بھی ہم اگر کبھی ایسا نہ کر سکیں

 

سر سے تمھارے عشق کا سودا نہ جا سکے

تا عمر ہم کسی کو بھی اپنا نہ کر سکیں

 

جلتے رہیں سدا یونہی رستوں کی دھوپ میں

یادوں کے سائبان بھی سایا نہ کر سکیں

 

مصروفیت تو ہو مگر ایسی نہیں کہ اب

بزمِ خیال بھی کوئی برپا نہ کر سکیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ