اردوئے معلیٰ

تری ایک ترچھی نگاہ نے مرے دل سے پردہ اٹھا دیا

تری ایک ترچھی نگاہ نے مرے دل سے پردہ اٹھا دیا

جو کرشمہ پیش نظر نہ تھا مجھے ایک پل میں دکھا دیا

 

تری شان کا میں نشان ہوں مجھے عشق نے یہ پتہ دیا

کھلی آنکھ سے تجھے دیکھنا مرے دل نے مجھ کو بتا دیا

 

مجھے اپنے دل پہ نظر نہ تھی کبھی اس صدا کی خبر نہ تھی

جرس الست بربکم جو سنا نہ تھا وہ سنا دیا

 

تری شکل آنکھوں میں رہ گئی نہ ہوا رہی نہ ہوس رہی

وہ جو نقش خواب و خیال تھا میرے دل سے تو نے مٹا دیا

 

تو ہی تو ہے تیری نگاہ میں تو ہی مہر میں تو ہی ماہ میں

یہ اثر ہے تیرے کمال کا جو عزیزؔ کر کے سوجھا دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ