اردوئے معلیٰ

Search

تری زلف سمجھی اشارہ ہوا کا

بہت اوج پر ہے ستارہ ہوا کا

 

کماں کھنچ گئی ہے دھنک کی فضا میں

شعاعوں نے رستہ نکھارا ہوا کا

 

چراغوں سے ہے ربط فانوس جیسا

تو پھولوں سے رشتہ ہمارا ہوا کا

 

ملا یوں توازن ہمیں گردشوں سے

پرندے کو جیسے سہارا ہوا کا

 

خزاں زاد پتّوں پہ لکھ کر فسانے

لو آیا ہے تازہ شمارہ ہوا کا

 

وہ خاشاک صورت فضاؤں میں گم ہیں

جو چھُونے چلے تھے کنارہ ہوا

 

عجب حوصلہ اک دیا روشنی نے

دیا کر رہا ہے نظارہ ہوا کا

ق

زمینوں میں وحشی بگولے کی صورت

فلک چڑھ رہا ہے منارہ ہوا کا

 

قبائیں سنبھالو اے دستار والو!

کہ گلیوں میں ہے اب اجارہ ہوا کا

 

پلٹ جاتے ہیں بادلوں کے سفینے

مخالف ہے مٹی کے دھارا ہوا کا

 

نہیں بس میں شعلوں کے اتنی تباہی

ضرور اُن کو ہو گا سہارہ ہوا کا

 

دیئے بجھ گئے تو سوا ہو گیا حبس

نہ لے نام کوئی دوبارہ ہوا کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ