تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میں کھلا رہے

تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میں کھلا رہے

مری سانس جس سے مہک اٹھے وہ قرار دل میں بسا رہے

 

میں پڑا رہوں تری راہ میں تری چاہتوں کی پناہ میں

مجھے ٹھوکروں کی نہ فکر ہو مرا زخم زخم ہرا رہے

 

مری زندگی کا ہر ایک پل ترے پیار سے بنے با عمل

تری چاہتوں پہ جیوں مروں ترے غم کی دل میں جلا رہے

 

رہے تیری یاد سے واسطہ کوئی اور نہ ہو مرا راستہ

مرے شعر میری بقا بنیں مرا رنگ سب سے جدا رہے

 

یہی آسؔ ہے یہی آرزو تیری ہر گھڑی کروں گفتگو

مری آنکھ ہو سدا با وضو یونہی مجھ پہ فضلِ خدا رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ