اردوئے معلیٰ

ترے در سے اُٹھ کے جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

درِ غیر پہ ٹھکانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

 

جہاں یار ہو نہ میرا ، ہو جہاں نہ اُس کا پھیرا

وہاں میرا آنا جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

 

ترا ذکرِ خیر دلبر ، ہے ازل سے میرے لب پر

کسی اور کا فسانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

 

مجھے کیا غرض جہاں سے ، کہ جہانِ عاشقی ہیں

مرے کام کا زمانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

 

جہاں برق کی نظر ہو ، جہاں بجلیوں کا ڈر ہو

وہاں میرا آشیانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

 

رکھے کفرِ عشق سے جو کسی دل کو دُور ایسا

ترا حُسنِ کافرانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

 

یہ میں جانتا ہوں پُرنمؔ ، جو نہ سمجھیں دوستی کو

مرا اُن سے دوستانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات