اردوئے معلیٰ

Search

ترے فراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز

یہی ہے راہرو شوق کے لیے مہمیز

 

اِسی کے نم سے ہے باقی مری نگاہ کا نور

اِسی کے سوز سے ہے ساز دل نوا آمیز

 

اِسی کا جذب خوش آہنگ ہے نظر میں کہ آج

مرا کدو ہے مئے سلسبیل سے لبریز

 

یہی ہے نغمہ، دل افروز ساز جاں کے لیے

اِسی سرود سے پیدا ہے جوہر تبریز

 

اِسی کی ضرب سے تارِ ربابِ جاں میں سرور

اِسی کا لحن ہے دل کے لیے سکوں آمیز

 

مرے کلام میں تاثیر اِسی کے دم سے ہے

اِسی سے فکر کی بنجر زمین ہے زرخیز

 

یہ آرزو ہے بہشت حجاز میں پہنچے

یہی زمین ہے خالد کو خلد عنبر بیز

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ