اردوئے معلیٰ

تسکینِ قلب و جان کا سامان ہو گیا

طیبہ مری حیات کا عنوان ہو گیا

 

انسان تھا عظیم مگر اس قدر نہ تھا

جتنا عظیم آپ سے انسان ہو گیا

 

جو کچھ کہا ہے آپ نے اے فخرِ کائنات

وہ مری جان ہو گیا ایمان ہو گیا

 

سلطانِ کائنات کے روضے کے سائے میں

جو بھی فقیر آ گیا سلطان ہو گیا

 

آنکھوں میں ایک قطرۂ ناچیز تھا مگر

میرے لئے نجات کا سامان ہو گیا

 

جس کو شعاعِ عشقِ محمد عطا ہوئی

مسرورؔ اس کا راستہ آسان ہو گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات