اردوئے معلیٰ

Search

تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے

کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے

 

جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے

مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے

 

یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے

زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے

 

الہی میں قربان تیرے کرم کے

مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے

 

وہی اشک ہے حاصل زندگانی

جو ہر آنسو پہ یاد حبیب آ رہا ہے

 

جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا

خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے

 

جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی

در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ