اردوئے معلیٰ

Search

تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا

تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا

 

کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا

یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا

 

پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم

خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا

 

دل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی گیا سب کچھ

نہ پائیں سینے میں آہیں نہ آہوں میں اثر پایا

 

وہ چشم منتظر تھی جس کو دیکھا آ کے وا تم نے

وہ نالہ تھا ہمارا جس کو سوتے رات بھر پایا

 

میں ہوں وہ ناتواں پنہاں رہا خود آنکھ سے اپنی

ہمیشہ آپ کو گم صورت تار نظر پایا

 

حبیب اپنا اگر دیکھا تو داغ عشق کو دیکھا

طبیب اپنا اگر پایا تو اک درد جگر پایا

 

کیا گم ہم نے دل کو جستجو میں داغ حسرت کی

کسی کو پا کے کھو بیٹھے کسی کو ڈھونڈھ کر پایا

 

کیا گم ہم نے دل کو جستجو میں داغ حسرت کی

کسی کو پا کے کھو بیٹھے کسی کو ڈھونڈھ کر پایا

 

بہت سے اشک رنگیں اے جلالؔ اس آنکھ سے ٹپکے

مگر بے رنگ ہی دیکھا نہ کچھ رنگ اثر پایا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ