تصوّر آپؐ کا میں نے دِل و جاں میں اُتارا ہے

تصوّر آپؐ کا میں نے دِل و جاں میں اُتارا ہے

بڑا مضبوط ہے رشتہ بڑا محکم سہارا ہے

 

وہ محبوبِ خُداؐ بھی، رحمۃ اللعالمیںؐ بھی وہ

ازل سے تا ابد ہر دم رواں رحمت کا دھارا ہے

 

پُکارا آپؐ کو جس وقت میں نے قعرِ دریا میں

بھنور، گرداب میں، طوفان میں اُبھرا کنارا ہے

 

فرشتے اُس گھڑی نازل ہوئے تائید و نصرت کو

مسلمانوں نے صدقِ دِل سے جب رو کر پُکارا ہے

 

بہت بے نور تھے شام و سحر، بے کیف تھے لمحے

درودوں کی صدا سے میں نے ہر لمحہ نکھارا ہے

 

خُدا اُس پر کرم فرمائے گا، اُس کو نوازے گا

جو منظورِ نظر ہے آپؐ کا، اللہ کا پیارا ہے

 

مرے سرکارؐ میرے مُونس و ہمدرد و ہمدم ہیں

وہ کوئی اور ہو گا جو ظفرؔ! فرقت کا مارا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات