تقریر میں کی اس نے ہجوِ مئے ناب آخر

تقریر میں کی اس نے ہجوِ مئے ناب آخر

واعظ نے زباں تَر کی از ذکرِ شراب آخر

 

عرصہ تھا جوانی کا اک عرصۂ خواب آخر

جب آنکھ کھلی اپنی تھا دورِ شباب آخر

 

حق بات کو کہنے میں کیا مجھ کو حجاب آخر

اول ہے کتابوں میں اتری جو کتاب آخر

 

بے چین ہمیں رکھنا بے چین ہی خود رہنا

دل لے کے کہاں جائیں خر مست و خراب آخر

 

ہے کون سی منزل میں یہ قافلۂ مسلم

کیوں چھن گئی پہلی سی دل کی تب و تاب آخر

 

دامن پہ نظرؔ رکھو یعنی نہ ہو تر دامن

خالق کو دکھانا ہے منہ روزِ حساب آخر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے
میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا
غضب کی دُھن، بلا کی شاعری ہے
وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟
بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں
درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ
بنا ہے آپ سبب اپنی جگ ہنسائی کا
تو بہت کچھ تھا سو بچا کچھ کچھ