اردوئے معلیٰ

Search

تمناؤں کو اجلا کر لیا ہے

مدینے کا ارادہ کر لیا ہے

 

رقم کرنی ہے مجھ کو نعتِ آقا

ورق یوں دل کا سادہ کر لیا ہے

 

ملی ہے جب سے یادِ شہرِ طیبہ

ہر اک شے سے کنارہ کر لیا ہے

 

ترے روئے منور کی ضیا سے

قمر نے استفادہ کر لیا ہے

 

جو راہِ مصطفیٰ کی خاک پائی

اسے اپنا لبادہ کر لیا ہے

 

تلاطم خیز بحرِ زندگی میں

درودوں کو سفینہ کر لیا ہے

 

مجیبؔ اب تو دعا مقبول ہوگی

شہِ دیں کو وسیلہ کر لیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ