تمنا سروری کی ہے نہ حسرت مال و زر کی

تمنا سروری کی ہے نہ حسرت مال و زر کی

نہیں ہے چاہ کوئی جاہ و حشمت، کروفر کی

یہی گریہ و زاری ہے ظفرؔ مسکیں گداگر کی

درِ حضرتؐ پہ مل جائے جگہ اُس کو سگِ در کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
اس درجہ ہے ضعف جاں گزائے اسلام
دل میں سرکارؐ کی محبت ہے
نبیؐ کے عشق میں مسرُور رہنا
مریضِ عشق کو سرکارؐ کا دیدار ہو جائے
جبیں میری ہے اُنؐ کا آستاں ہے
نہیں اُنؐ سا زمین و آسماں میں
سدا آنکھ یادِ نبی میں رہی نم
’’جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے‘‘
’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘

اشتہارات