اردوئے معلیٰ

Search

تمنا ہے کہ چوموں ان کے در کو

چلا ہوں بھول کر میں اپنے گھر کو

 

نگاہیں اڑ گئیں طیبہ سے گھر کو

لیے آغوش میں دیوار و در کو

 

چمکتی ہے جبیں ان کے گدا کی

کہاں رتبہ ملا یہ تاجور کو

 

نبی کی نعت کے صدقے میں یا رب

اڑا اونچا مری فکر و نظر کو

 

نبی کے نام کا مرہم لگا دے

لیے بیٹھا ہے کیوں تو ٹوٹے پر کو

 

دعاؤں کے پرندے آ رہے ہیں

درودو! کھول دو باب اثر کو

 

مجیب آئی جو کوئے مصطفیٰ میں

ملی پوشاک گل گرد سفر کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ