تمنّا کا خلاصہ آرہا ہے

 

تمنّا کا خلاصہ آرہا ہے

مدینے سے بلاوا آرہا ہے

 

وہ اظہارِ تشکر سے ہے قاصر

نہیں الفاظ گویا آرہا ہے

 

سفینے سے مناظر تک رہا ہوں

قریب اپنے کنارہ آرہا ہے

 

نجانے تجھ تلک پہنچا نہیں کیوں؟

کوئی مدّت سے چلتا آرہا ہے

 

اجازت مرحمت فرمائیں آقا

کوئی بھولا کہ بھٹکا آرہا ہے

 

میں تو ملتان میں بیٹھا ہوا ہوں

نگاہوں میں مدینہ آرہا ہے

 

مرے مرنے پہ کوئی خواب دیکھے

کہ اشعرؔ سوئے روضہ آرہا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے
وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے
میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں
ہر گھڑی اک یہی ہے لگن یا نبی
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
کوئے رشکِ ارم کا ارادہ کروں
یقیں میں ڈھلتا نہیں ممکنات کا پرتَو
آنکھ کو چھُو کے پسِ حدِ گماں جاتی ہے
ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے
اٹھانا ہے جو برکت زندگی بھر

اشتہارات