تمہاری تصویر ہم مسلسل ہی تک رہے ہیں

تمہاری تصویر ہم مسلسل ہی تک رہے ہیں

ہماری آنکھوں سے اشک بے حد ٹپک رہے ہیں

 

ہم اشتباہا عجیب بستی میں آ گئے ہیں

کہ لوگ اک دوسرے کے عیبوں کو ڈھک رہے ہیں

 

ہمارے آنگن میں سنگ باری ہوئی شجر پر

تو ہم نے جانا کہ پھل درختوں کے پک رہے ہیں

 

خود ان میں جلتے رہیں گے پل پل کہ جن کے دل میں

غرور و بغض و حسد کے شعلے لپک رہے ہیں

 

انہیں کی خاطر فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے

جو بچے صحرا میں تشنگی سے بلک رہے ہیں

 

خدا کرے کہ یہ برق انکی صدا نہ سن لے

شجر پہ جو گھونسلوں میں پنچھی چہک رہے ہیں

 

کہ جنگ شک و یقیں میں دیکھا گیا یہی ہے

عدوئے اہل یقین بس اہل شک رہے ہیں

 

خدا نے خود لی تھی رزق و روزی کی جب ضمانت

عجب ہے ہم محو فکر نان و نمک رہے ہیں!

 

عجیب صحرا ہے یہ محبت کا جسمیں نوری

ارادتََا سب خوشی سے پیہم بھٹک رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ