اردوئے معلیٰ

تمہارے وصل کی یادوں کے ساتھ کاٹتا ہے

تمہارے ہجر میں دل جب بھی رات کاٹتا ہے

 

کوئی تو اسکی طناب حیات کاٹے گا

جو دوسروں کی طناب حیات کاٹتا ہے

 

مجھے یقیں ہے محبت کو خوب ترسے گا

جو دو دلوں کے میاں ارتباط کاٹتا ہے

 

عجیب حسن کا پیکرہے وہ مرا یوسف

اسے جو دیکھتا ہے اپنے ہاتھ کاٹتا ہے

 

عجب نہیں کہ پرندوں کی آہ لگ جائے

ستم کی آری سےجو جنگلات کاٹتا ہے

 

وہ جسکے چہرے سے آثار مفلسی ہوں عیاں

تو اس سے کیوں یہ جہاں ارتباط کاٹتا ہے؟

 

وہ شخص نقشہء دنیا بدل بھی سکتا ہے

جو مسکرا کے رہ مشکلات کاٹتا ہے

 

تجھے جو دیکھ کے کرتا ہوں ابتدا دن کی

تو راہ غم بھی یہ دل با نشاط کاٹتا ہے

 

توبا خبر نہیں آداب گفتگو سے کہ تو

میان گفتگو نوری کی بات کاٹتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات