اردوئے معلیٰ

تنویر مہر و مہ میں نہ حسن ضیا میں ہے

تنویر مہر و مہ میں نہ حسن ضیا میں ہے

جتنا جمال مصحفِ نورالہدیٰ میں ہے

 

وہ لہجہ نور والا ، وہ اسلوب پُر وقار

وہ لفظ محترم ہے جو ان کی ثنا میں ہے

 

جو مانگنا ہو مانگو انہیں کے طفیل سے

مرضی خُدا کی میرے نبی کی رضا میں ہے

 

اُن پر نِثار ہو کے ذرا دیکھو آئینہ

آرائش حیات غمِ مُصطفیٰ میں ہے

 

راہوں میں اُن کی دِل کی جبیں تو بچھائیے

تسکین کائنات حدیثِ وفا میں ہے

 

جو چاہیں فیصلہ دیں مدینہ بُلا کے آپ

آقا غم غریبی ہی میری خطا میں ہے

 

تیرا کرم ہے آقا کہ بیکل کی زندگی

خوش قسمتی سے حلقہ فیض رضا میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ