اردوئے معلیٰ

تن کے احساس پہ حاوی رہی من کی خواہش

عمر بھر ساتھ رہی تیرے وطن کی خواہش

 

آپ کے کوچے میں آئے ہوئے یہ خانہ بدوش

کیسے کر پائیں کسی باغِ عدن کی خواہش

 

ایک ہی لَے میں ہیں سب لالہ و گل مدح سرا

نعت تو جیسے ہوئی پورے چمن کی خواہش

 

آپ کے مشک پسینے کی عطائیں مہکیں

جب صحابہ کو ہوئی مشکِ ختَن کی خواہش

 

اک تری دید کی خواہش تھی پسِ حرفِ طلب

زیست لے آئی ہے سرکار کفن کی خواہش

 

خارِ بطحا کی لطافت ہے مرے پیشِ نظر

اب ذرا سی بھی نہیں سر و سمن کی خواہش

 

شہرِ احساس میں اب پھیلی ہوئی ہے ہر سو

مہرِ پُر نور تری ایک کرن کی خواہش

 

رفعتِ میم سے اِک دال کی رعنائی تک

چار حرفوں کی ہے مقصودؔ سخن کی خواہش

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات