توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے

توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے

اس دل پہ نظر حضور کی ہے

 

آقا مجھے در پہ حاضری کا

اب اذن ملے کہ بے کلی ہے

 

مل جائے گا کچھ ہنر بھی اک دن

کوشش تو ثنا کی میں نے کی ہے

 

حاضر ہوں خیال میں جو در پر

احساس میں کیا شگفتگی ہے

 

اے کاش! ہو پیروی کی مظہر

نعتوں میں جو آج آگہی ہے

 

گہرا ہو وہ رنگ پیروی کا

کردار کہے محمدی ہے

 

اک نام ہے روشنی کا حامل

اک اسم کی سب یہ روشنی ہے

 

حبّ شہِ دوسرا دلوں میں

روحوں میں بھی ایک تازگی ہے

 

مدحت کے صلے میں ان کو دیکھوں

دھڑکن میں یہ آرزو بسی ہے

 

توفیق ثنائے سرور دیں

احسن کو نصیب سے ملی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرت سے کھُلے گا نہ حکایت سے کھُلے گا
قربان مقدر پہ ترے وادیٔ ایمن
اذنِ ثنا ہُوا ہے نگہدارِ حرف سے
جب اپنے نامۂ اعمال پر مجھ کو ندامت ہو
بختِ خفتہ کے سبھی جڑ سے ہی کٹ جائیں درخت
جمال و حسن کا طُغریٰ ہے آپ کی چوکھٹ
تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات
زندگی ملی حضور سے
عشقِ احمد سے قرینہ آ گیا
انجامِ التجا، شبِ غم کی سحر پہ ہو