توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے

توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے

اس دل پہ نظر حضور کی ہے

 

آقا مجھے در پہ حاضری کا

اب اذن ملے کہ بے کلی ہے

 

مل جائے گا کچھ ہنر بھی اک دن

کوشش تو ثنا کی میں نے کی ہے

 

حاضر ہوں خیال میں جو در پر

احساس میں کیا شگفتگی ہے

 

اے کاش! ہو پیروی کی مظہر

نعتوں میں جو آج آگہی ہے

 

گہرا ہو وہ رنگ پیروی کا

کردار کہے محمدی ہے

 

اک نام ہے روشنی کا حامل

اک اسم کی سب یہ روشنی ہے

 

حبّ شہِ دوسرا دلوں میں

روحوں میں بھی ایک تازگی ہے

 

مدحت کے صلے میں ان کو دیکھوں

دھڑکن میں یہ آرزو بسی ہے

 

توفیق ثنائے سرور دیں

احسن کو نصیب سے ملی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ