اردوئے معلیٰ

Search

تو جس کو مانگتا ہے وہی تاج پوش سر

تیرے حضورِ ناز کبھی کا جھکا چکے

 

دیکھیں تو کیا چھپا ہے پسِ پردہِ فنا

ائے زندگی تجھے تو بہت آزما چکے

 

دم بھر کو دم بھی لیں تو نہیں اب مضائقہ

ہم دل کی دسترس سے بہت دور آ چکے

 

تم آ گئے ہو تو ہو چلو رقصِ مرگ پھر

یوں تو ہزار بار یہ کرتب دکھا چکے

 

سجدے ٹپک رہے ہیں ابھی تک جبین سے

گرچہ وہ آستان کبھی کا گنوا چکے

 

اک کھیل تو ملا ترے بے رنگ شہر کو

ہم کو ہمارے رنگ تماشہ بنا چکے

 

دشتِ جنوں میں لاکھ دراڑیں تھیں اور ہم

ایسی کسی دراڑ میں آخر سما چکے

 

اک نقشِ آرزو تھا کہ جس کی ہوس میں ہم

اپنے ہی خال و خد کی لکیریں مٹا چکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ