اردوئے معلیٰ

Search

تو جو میرا نہ رہنما ہوتا

کوئی منزل نہ راستہ ہوتا

 

ہم کو صحرا نگل گئے ہوتے

گر نہ رہبر وہ نقشِ پا ہوتا

 

غم زمانے کے مار ہی دیتے

گر تمہارا نہ آسرا ہوتا

 

اذن پاتے ہی جسم سے پہلے

دل مدینے کو جا چکا ہوتا

 

شوق میرا اڑان یوں بھرتا

تیرے قدموں میں جا گرا ہوتا

 

رات کتنی حسین ہو جاتی

خواب ہی میں تو آگیا ہوتا

 

دن بھی میرا نکھر نکھر جاتا

رات یادوں میں جاگتا ہوتا

 

میرا مرنا بھی سہل ہو جاتا

تو دمِ نزع آ گیا ہوتا

 

عمر یوں ہی تمام ہو جاتی

نوری وقفِ ثنا رہا ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ