اردوئے معلیٰ

تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات

تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات

پنہاں ہیں تیری ذات میں رب کی تجلیات

 

ہر شے کو تیری چشمِ عنایت سے ہے ثبات

ہر شے میں تیرے حسنِ مکمل کے معجزات

 

کونین کو ہے ناز تیری ذاتِ پاک پر

احسان مند ہیں تیری ہستی کے شش جہات

 

پژمردہ صورتوں کو ملی تجھ سے زندگی

نقطہ وروں کو سہل ہوئیں تجھ سے مشکلات

 

ظلمت کدوں میں نور کے چشمے ابل پڑے

رحمت سے تیری ٹل گئی ظلم و ستم کی رات

 

تاروں کو ضوفشانیاں تجھ سے ہوئیں نصیب

پھولوں کی نازکی پہ تیری چشمِ التفات

 

ہر شے میں زندگی کی کرن تیری ذات سے

افشا یہ راز کر گئی معراج کی وہ رات

 

اپنے دل و نگاہ کے آئینے صاف رکھ

گر دیکھنے کی چاہ ہے تجھ کو نبی کی ذات

 

کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا سے ڈر

بالا ہے تیری سوچ سے سرکار کی حیات

 

انکی محبتوں کا گزر ہے خیال میں

یونہی نہیں ہیں آسؔ کی ایسی نگارشات

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ