اردوئے معلیٰ

Search

تو قرار جان بتول ہے تری ذات جلوۂ حیدری

ترا عشق عشق حسین ہے تری ہر ادا میں ہے دلبری

 

ترا نام آل رسول ہے تو علی کے باغ کا پھول ہے

ترا رنگ قادری رنگ ہے تری خوشبو خوشبوئے سنجری

 

تو غریق ذات قدیم ہے تو کریم ابن کریم ہے

تری شان کتنی عظیم ہے ملا خاندان پیمبری

 

تری ابتدا تری انتہا کا پتہ کوئی نہ لگا سکا

ملی بحر وحدت و معرفت کی ہے شاہ تجھ کو شناوری

 

تو سخاوتوں کا ہے آسماں ہے چہار سو تری داستاں

تری ٹھوکروں میں ہے سروری ترے در کو چومے سکندری

 

تو چراغ محفل عاشقاں تو امام مسجد عارفاں

تو وہ مست جام الست ہے ملی جسکو شان قلندری

 

تری درسگاہ خلوص میں تری بارگاہ نیاز میں

شب و روز دیتے ہیں حاضری جو ہیں علم و فضل کے عبقری

 

ترے مرتبے کی بلندیاں جنھیں چھو سکے نہ مرا گماں

مرے حق میں یہ بڑا جرم ہے جو کروں میں تیری برابری

 

ترے شیخ شاہ حسن میاں جو ہیں قبلۂ دل خاصگاں

دی نگاہ فیض عزیز نے تجھے راہ شوق کی رہبری

 

ترے آستاں کا وہ رنگ ہے جسے عقل دیکھ کے دنگ ہے

ترے در کی جو کرے چاکری وہی بانٹتا ہے تونگری

 

وہ بڑا امیر و کبیر ہے جو اس آستاں کا فقیر ہے

مجھے ناز ہے کہ ملی مجھے ترے آستاں کی مجاوری

 

مری زندگی کو سجا دیا میں تھا خاک سونا بنا دیا

میں نثار تیری نگاہ پر جسے حق نے بخشی ہے زرگری

 

گل باغِؒ عزتِ بے بہا اسے بخش دے اسے کر عطا

ترا نورؔ تیرے حضور ہے بہ ہزار شوقِ گداگری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ