اردوئے معلیٰ

تو میری سوچ کے پودے کو اک شجر کر دے

تو میری سوچ کے پودے کو اک شجر کر دے

دعا یہ ہے مرے لہجے کو معتبر کر دے

 

صدف میں فکر و تخیل کے میں مقید ہوں

مثالِ قطرہ ہوں برسوں سے اب گہر کر دے

 

صلیب و دار و رسن ہی مرا مقدر ہے

سفر کٹھن ہے کوئی مرا ہم سفر کر دے

 

بچا لے شر کی تباہی سے تو مجھے یا پھر

مری حیات کے عرصے کو مختصر کر دے

 

سوائے اس کے مرے دل میں آرزو ہی نہیں

یہی کہ مرکزِ اخلاص میرا گھر کر دے

 

میں پھنس سکوں نہ کبھی دامِ شر میں دنیا کے

مجھے مقاصدِ ہستی سے باخبر کر دے

 

اوڑھا دے چادر رحمت عیوبِ ساحل پر

ہے بے اثر یہ نوا، اس کو با اثر کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ