تو کیا برا ہے اگر خود سے کر لیا میں نے

تو کیا برا ہے اگر خود سے کر لیا میں نے

مجھے کسی نہ کسی سے تو عشق ہونا تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رات بھر چاندنی کے باغ سے میں
تُو پھر سے لوٹ آئی مری شامِ غم تو سُن
مشت برابر جیون اندر،جنم جنم کے روگ
یہ اور بات غلامی قبول کی تیری
کاش ایسا ہو کوئی بات ضروری رہ جائے
عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی
اس کے طرز سخن کے مارے لوگ
میں اس کی قید سے آزاد کہاں ہوں
کیوں تمہیں کہتے نہیں جاؤ مناؤ بھی اسے
جس وچ اک اک ساہ لگ جاوے

اشتہارات