تُجھ سے دور آتے ہوئے جانا کہ یہ سب کیا ہے

تُجھ سے دور آتے ہوئے جانا کہ یہ سب کیا ہے

دُکھ کسے کہتے ہیں اور درد کا مطلب کیا ہے

 

اُن کے دیکھے سے مجھے دولتِ ایمان ملی

میرے کافر! تیری آنکھوں کے سوا رَب کیا ہے

 

اُسے دیکھا نہ سُنا تم نے ، تمہیں کیا معلوم

خُوشبوئے چشم ہے کیا ، روشنیِٔ لب کیا ہے

 

رات دن مذہب و مسلک پہ جھگڑنے والو

مجھے سمجھاؤ کہ اللہ کا مذہب کیا ہے ؟

 

لُطف ایسا تھا کہ میں بھول گیا اپنا نام

اُس نے جب پوچھا ترے نام کا مطلب کیا ہے ؟

 

میرا ایمان تو یہ ہے کہ نہیں تجھ سا کوئی

اور اگر تجھ سا کوئی ہو بھی کہیں ، تب کیا ہے ؟

 

چل کسی روز کہیں بیٹھ کے سوچیں فارس

پہلے پہلے تو محبت تھی ہمیں ، اب کیا ہے؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خُدائے زمان و مکاں ! الاماں
زیادہ پاس مت آنا
شہزادہ علی اصغرؑ
کچھ ایسے لمحۂ موجود میں پیوست ہے ماضی
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں

اشتہارات