اردوئے معلیٰ

تُو حکم کر ، نہ جاؤں تو جو چور کی سزا

پھر میں پلٹ کے آؤں تو جو چور کی سزا

 

بے خوف آ کے مِل کہ ترے اِذن کے بغیر

میں آنکھ بھی اُٹھاؤں تو جو چور کی سزا

 

چوری کروں گا بس ترا دل ، نیند اور چَین

میں اور کچھ چراؤں تو جو چور کی سزا

 

مجھ بے نوا گدا کو نہ در سے اٹھاؤ تم

ہاں گر صدا لگاؤں تو جو چور کی سزا

 

صدیوں تُو آزما لے بھلا میرے صبر کو

شکوہ زباں پہ لاؤں تو جو چور کی سزا

 

میں ہارنے ہی آیا ہوں تُو کھیل تو سہی

تجھ کو نہ جیت پاؤں تو جو چور کی سزا

 

جی بھر کے آج مجھ کو پلا اور ساتھ چل

تھوڑا بھی ڈگمگاؤں تو جو چور کی سزا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات