تِرا مفاد بھی ہم کو دکھائی دیتا ہے

تِرا مفاد بھی ہم کو دکھائی دیتا ہے

وگرنہ کون کسی کو بھلائی دیتا ہے

 

کبھی غریب کو عزت گنوانی پڑتی ہے

کبھی لگان میں پوری کمائی دیتا ہے

 

مِری ہی سوچ کی چاندی ہے میرے بالوں میں

قلم کو میرا لہو روشنائی دیتا ہے

 

کبھی جھمیلے سے باہر نکل سکے تو سُن

وہ غدر جو مِرے اندر سنائی دیتا ہے

 

مِرا ہی ذہن تجھے ڈھالتا ہے شعروں میں

مِرا خیال تجھے دلربائی دیتا ہے

 

اِسی لئے کسی کو چاہتا نہیں ہوں میں

کہ آخرش یہی جذبہ جدائی دیتا ہے

 

اب ایک عرصہ ہوا زیست کو اسیری میں

وہ دیکھئے ہمیں کب تک رہائی دیتا ہے

 

نہیں ملے گا تمہیں غیر میں کبھی اشعرؔ

وہ اعتبار کہ جو ایک بھائی دیتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں 
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ
جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں اچھا نہیں رہا
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے
مدفون مقابر پہ تحاریر کی صورت

اشتہارات