اردوئے معلیٰ

تِرا مفاد بھی ہم کو دکھائی دیتا ہے

تِرا مفاد بھی ہم کو دکھائی دیتا ہے

وگرنہ کون کسی کو بھلائی دیتا ہے

 

کبھی غریب کو عزت گنوانی پڑتی ہے

کبھی لگان میں پوری کمائی دیتا ہے

 

مِری ہی سوچ کی چاندی ہے میرے بالوں میں

قلم کو میرا لہو روشنائی دیتا ہے

 

کبھی جھمیلے سے باہر نکل سکے تو سُن

وہ غدر جو مِرے اندر سنائی دیتا ہے

 

مِرا ہی ذہن تجھے ڈھالتا ہے شعروں میں

مِرا خیال تجھے دلربائی دیتا ہے

 

اِسی لئے کسی کو چاہتا نہیں ہوں میں

کہ آخرش یہی جذبہ جدائی دیتا ہے

 

اب ایک عرصہ ہوا زیست کو اسیری میں

وہ دیکھئے ہمیں کب تک رہائی دیتا ہے

 

نہیں ملے گا تمہیں غیر میں کبھی اشعرؔ

وہ اعتبار کہ جو ایک بھائی دیتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ