تڑپ تو رکھتا ہوں زادِ سفر نہیں رکھتا

تڑپ تو رکھتا ہوں زادِ سفر نہیں رکھتا

کرم حضورﷺ! کہ میں بال و پر نہیں رکھتا

 

میں عرضِ حال کے قابل کہاں مرے آقا ﷺ!

سوائے عجزِ بیاں، کچھ ہُنر نہیں رکھتا

 

ستم زدہ ہوں نگاہِ کرم کا طالب ہوں

میں بے اماں ہوں کہیں کوئی گھر نہیں رکھتا

 

مجھے بھی عشق کی سچائیاں میسر ہوں

نثار کرنے کے قابل میں سر نہیں رکھتا

 

وہ نالہ کھینچتا رہتا ہوں روز و شب آقا ﷺ!

جو شور رکھتے ہوئے بھی اثر نہیں رکھتا

 

زکوٰۃ سیرتِ اطہر کی چاہتا ہے عزیزؔ

گدائے خُلْق ہے آقا ﷺ!، یہ زر نہیں رکھتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ان کے نام پاک پر مرجائیے
وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے
آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے
چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں
در جاں چو کر منزل، جانانِ ما محمد
خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا
اُنہی کا نور پھیلا ہے جدھر دیکھو جہاں دیکھو