اردوئے معلیٰ

تھوڑی ہے عمر، اُن کی ثنا بار بار کر

 

تھوڑی ہے عمر، اُن کی ثنا بار بار کر

غفلت شعار! نعتِ نبی اختیار کر

 

سرمایۂ تصورِ طیبہ ملے مجھے

اللہ! میرے دل کو بنی کا دیار کر

 

بعد از دعا، حجاب کوئی پل کی بات ہے

اے چشمِ بے قرار! ذرا انتظار کر

 

اے چارہ سار! تلخئ ایام تا کجا

دستِ دعا اٹھا کے خزاں کو بہار کر

 

رخصت ہو دل سے دولتِ دنیا کی آرزو

یوں مجھ کو نے نیاز مرے تاجدار کر

 

اخترؔ خیالِ غير کو دل سے نکال دے

سب چاہتوں کو حُبِ نبی پر نثار کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ