اردوئے معلیٰ

Search

تھی جہد کی منزل سر کرنی مقسوم ہمارا کیا کرتے

طوفان سے کھیلے اے ہمدم طوفاں سے کنارا کیا کرتے

 

پُر کر دے ہمارا جامِ تہی ساقی کو اشارا کیا کرتے

ہم اپنی ذرا سے خواہش پر یہ بات گوارا کیا کرتے

 

ہر سو تھے مقابل فتنۂ غم دل ایک ہمارا کیا کرتے

کرنا ہی پڑا ان سب سے ہمیں ہنس ہنس کے گزارا کیا کرتے

 

بے پردگی حسنِ کامل پردہ ہی رہی موسیٰ کے لیے

جب آنکھ تھی بند اور ہوش نہ تھا ایسے میں نظارہ کیا کرتے

 

یہ اپنی شکستہ حالی میں کیا کام ہمارے آ سکتا

ٹوٹے ہوئے دل کا اپنے ہم پھر لے کے سہارا کیا کرتے

 

جانا تھا جو بزمِ جاناں میں اس دل کی معیت میں ہم کو

روٹھے کو منایا کیا کرتے بگڑے کو سنوارا کیا کرتے

 

للچائی ہوئی نظروں کا ہدف بننے کے سوا کیا ہونا تھا

ملتا بھی ہمیں تو ہم لے کر تاجِ سرِ دارا کیا کرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ