اردوئے معلیٰ

تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں

تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں

ٹھوکریں کھا کھا کے آ پہنچا تری سرکار میں

 

جس میں دل بستا ہے وہ دنیا مدینہ ہی تو ہے

دل میں کوئے یار ہے اور دل ہے کوئے یار میں

 

اسی کی بے مثلی میں کیا شک، ایک ہے وہ ایک ہے

یہ بھی اک بے مثل ہے کثرت کے لالہ زار میں

 

دوستو ، آقا ہمارا جامع اوصاف ہے

وصف سب نبیوں کے ہیں اک احمد مختار میں

 

آ گیا جو در پہ تیرے وہ نہیں خالی پھرا

کیا کمی آقا ترے دربار گوہر یار میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ