اردوئے معلیٰ

Search

تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم

در بدر آج بھی ہیں خواب سنبھالے ہوئے ہم

 

جام ہو کر بھی کہاں تیرے لبوں تک پہنچے

جشن کی رات ہواؤں میں اچھالے ہوئے ہم

 

آ گرے لوٹ کے دامن میں ہی کھوٹے سکے

تیرے در سے بھی ہمارے ہی حوالے ہوئے ہم

 

رُل گئے خاک میں دوپہر کے ہوتے ہوتے

صبح کی گود میں صد ناز سے پالے ہوئے ہم

 

حسن ، سو بار ، سرِ بام ِ رسائی اُترا

اور کم بخت فقط دیکھنے والے ہوئے ہم

 

کرب کے کانچ کو پگھلا کے کئی روپ دیے

خواب لائے ہیں نئی شکل میں ڈھالے ہوئے ہم

 

تُو ، محبت کا وہ پرچم ، کہ زمیں بوس ہوا

اور ہتھیار ہیں میدان میں ڈالے ہوئے ہم

 

خیمہِ نُور کہاں اب ، کہ تری ہجرت سے

دشت کے جسم پہ ابھرے ہوئے چھالے ہوئے ہم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ