اردوئے معلیٰ

تیرے در پر خطا کار ہیں سر بہ خم اے وسیع الکرم

 

تیرے در پر خطا کار ہیں سر بہ خم اے وسیع الکرم

حشر کے روز رکھنا ہمارا بھرم اے شفیع الامم

 

تیرا پہلا قدم اوجِ سدرہ پہ تھا اے مرے مقتضا

اوجِ قوسین کا فاصلہ بھی ہے کم اے سریع القدم

 

تو شہنشاہ و مختارِ دنیا و دیں رحمتِ عالمیں

دو جہانوں پہ ہیں تیرے لطف و نعم اے جمیع الحشم

 

بیتِ معمور پر بھی ہے جھنڈا ترا اے حبیبِ خدا

رفعتوں پر ترا ذکر ہے دم بدم اے رفیع العَلَم

 

یاد آئے جو طیبہ کے سرو سمن اے حرم کی پھبن

ٹل گئے دل کی دنیا سے رنج و الم اے وقیع الحرم

 

میری قسمت میں لکھ دیجئے سنگِ در بس پہر دو پہر

آپ کی دسترس میں ہیں لوح و قلم اے بدیع الحَکَم

 

درد فرقت کا جھیلا ہے اشفاقؔ نے تیرے مشتاق نے

آ، چھڑا لے مجھے میں ہوں مفتوحِ غم اے شجیع الاتم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ