اردوئے معلیٰ

Search

تیغ اپنوں نے چھینی تھی

ورنہ جیت یقینی تھی

 

رات سحر تک مہکا ہوں

اُس کی خوشبو بھینی تھی

 

ہم فرسودہ کہلائے

اپنی خصلت دینی تھی

 

نازک ہاتھ جلا ڈالے

چائے لازم پینی تھی

 

پریوں سے سُندر تھا رُوپ

لیکن خلق زمینی تھی

 

کس سُرعت سے درد ملے

وقت کی کوکھ مشینی تھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ