ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی

ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی

نگاہِ ناز سے کُھلتا ہے معاملہ دل کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مانتا ھُوں کہ مُجھے عشق نہیں ھے تُجھ سے
میں کہتا ہوں اُسے مت دیکھو لیکن
دل بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے
پڑا ہوں میں یہاں اور دل وہیں ہے
میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا
ترے مرے ملاپ پر وہ دشمنوں کی سازشیں
اس طرح سے زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سےکر لی
جب جب بھی خالی پرس کی جانب نظر اٹھی

اشتہارات