ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی

ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی

نگاہِ ناز سے کُھلتا ہے معاملہ دل کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ھر چیز مُشترک تھی ھماری سوائے نام
رستے میں مجھ کو مل گیا یونہی گرا پڑا
دل بضد تھا کہ مجھے غم سے پِگھل جانے دے
وقت کے اس نگار خانے میں
گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
ہر دم دم آخر ہے اجل سر پہ کھڑی ہے
ساتھ غالب کے گئی فکر کی گہرائی بھی
نفرتوں کا عکس بھی پڑنے نہ دینا ذہن پر
جو مے نوشی کی قسمیں فرقت ساقی نہ کھلواتی
اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب