اردوئے معلیٰ

Search

ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا

لبوں پہ ذکر مرے صبح و شام ہے تیرا

 

جو تم نہ ہوتے تو بستی نہ عالم ہستی

وجود کون و مکاں اہتمام ہے تیرا

 

کوئی نہیں تیرا ہمسر نہ کوئی سایہ ہے

سروں پہ سایہ ہمارے دوام ہے تیرا

 

دلوں میں عشق نبی کا نہ دیپ جلتا ہو

تو پھر فضول سجود و قیام ہے تیرا

 

تمہارے در کا ہے دربان جبرائیل امیں

"​مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا”​

 

قلم دیا مجھے اپنے نبی کی مدحت کا

مرے کریم یہ کیا کم انعام ہے تیرا

 

اسے بھی خسرو و محبوب سا ثناء گو کر

یہ امتی بھی تو آقا غلام ہے تیرا

 

وہ ایک نقطہ جسے خود خدا ہی جانتا ہے

خدا کے بعد جدا سا مقام ہے تیرا

 

ملی ہے آس کو جس نام سے پذیرائی

وہ نام نامی تو خیر الانام ہے تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ