اردوئے معلیٰ

Search

جائے سکوتِ تام ہے اظہار مت تڑپ

پیشِ حضور دیدۂ نَم بار مت تڑپ

 

تابِ جمال کب ہے تجھے چشمِ آرزو

بہرِ نویدِ موجۂ دیدار مت تڑپ

 

ناقہ سوار آئے تھے ، ٹھہرے ، چلے گئے

جاتے ہوؤں کو دیکھ کے اب غار مت تڑپ

 

اُن کے عطا و اذن پہ موقوف ہے چنا

حدِ ادب ہے ! خامۂ بے کار مت تڑپ

 

یہ رہگزارِ نازِ تمنا ہے ، رُک کے چل

احساس میں بھی خواہشِ رفتار مت تڑپ

 

اُن کا درِ کرم تو سکینت مآب ہے

آیا ہے در پہ اُن کے تو ، نادار مت تڑپ

 

رکھتے ہیں وہ ورائے تصور کی بھی خبر

بامِ خیالِ خام کے پندار مت تڑپ

 

دھڑکن سے بھی قریب ہیں اُن کی عنایتیں

قلبِ حزیں کے حاشیہ برادر مت تڑپ

 

اُن کے نقوشِ ناز کی تمثیل ہے محال

میرے گمانِ خام کے شہکار مت تڑپ

 

محشر کی تیز دھوپ میں رکھ اُن کا آسرا

مقصودؔ زیرِ سایۂ دیوار مت تڑپ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ