اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

جاتی ہیں بارشوں سے کر کے وضو ہوائیں

 

جاتی ہیں بارشوں سے کر کے وضو ہوائیں

طیبہ میں جا کے ہوتی ہیں مشکبو ہوائیں

 

کوئے نبیؐ سے نکلیں تو پھر اماں نہ پائی

پھرتی ہیں ماری ماری یوں کو بہ کو ہوائیں

 

بادِ نسیم صبح کا رُتبہ ملا ہے اُن کو

کرتی ہیں مصطفیٰؐ کی جب گفتگو ہوائیں

 

شہر نبیؐ کی گلیوں سے ڈھونڈ کر ہیں لائیں

پھولوں میں بانٹتی ہیں جو رنگ و بو ہوائیں

 

ریگِ عرب کے ذرے لگتے ہیں چاند تارے

پانی سے کہہ رہی تھیں سرِ آب جو ہوائیں

 

مرے مصطفیٰؐ سا کوئی نہ ملا نہ مل سکے گا

سارے جہاں میں ڈھونڈا، پھریں چار سو ہوائیں

 

اشفاقؔ ہم بھی بھیجیں اپنا سلام اُنؐ کو

کہہ دیں اگر ’’مواجہ‘‘ کے رُو برو ہوائیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہجر کا غم ہے یا رسول اللہ ﷺ
وہ ہی بے لوث ہے جو آپ کی نسبت سے ملا
آپ تو صرف حکُم کرتے ہیں
سیر احوال و مقامات ہے معراج کی رات
یاد آئی تو در ناب امڈ آئے ہیں
شوقِ دیدار ہے طاقِ امید پر
تیرے در پر خطا کار ہیں سر بہ خم اے وسیع الکرم
میں سو جاتا ہوں کر کے گفتگو صدیقِ اکبر کی
میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا
منزل کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور بس