اردوئے معلیٰ

Search

جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے

لب خشک ہیں تو مانگ لے کوثر جناب سے

 

دنیائے بے ثبات کے دانش کدوں سے کیا

حل مسئلوں کا پوچھ رسالت مآب سے

 

اس اسمِ بے مثال کی رعنائیاں نہ پوچھ

گلشن مہک رہا ہے دمکتے گلاب سے

 

گنجینہ علوم میں کوئی کمی نہیں

وابستگی ہے شرط رسالت مآب سے

 

اہلِ قلم کا اس پہ درود و سلام ہو

نوعِ بشر کو جس نے جگایا ہے خواب سے

 

مولائے کائنات کا ہے حکم، اس لیے

وابستہ ہو گیا ہوں درِ بوترابؑ سے

 

در کھل گئے ہیں ذہن کے سبطِ علی صباؔ

مجھ کو متاعِ فکر ملی ہے جناب سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ