جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے

جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے

لب خشک ہیں تو مانگ لے کوثر جنابؐ سے

 

دنیائے بے ثبات کے دانش کدوں سے کیا

حل مسئلوں کا پوچھ رسالت مآبؐ سے

 

اس اسمِ بے مثال کی رعنائیاں نہ پوچھ

گلشن مہک رہا ہے دمکتے گلاب سے

 

گنجینہ علوم میں کوئی کمی نہیں

وابستگی ہے شرط رسالت مآبؐ سے

 

اہلِ قلم کا اس پہ درود و سلام ہو

نوعِ بشر کو جس نے جگایا ہے خواب سے

 

مولائے کائناتؐ کا ہے حکم، اس لیے

وابستہ ہو گیا ہوں درِ بوترابؑ سے

 

در کھل گئے ہیں ذہن کے سبطِ علی صباؔ

مجھ کو متاعِ فکر ملی ہے جنابؐ سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جم گیا ہے مری آنکھوں میں یہ نقشہ تیرا
وہ جس سے مری آنکھ ہے بینا، ہے مدینہ
کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے
آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا
ہر علم کی تخلیق کے معیار سے پہلے
یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے
حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے
بن کے خیر الوریٰ آگئے مصطفیٰ ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے
بزم توحید سے تبلیغ کا نامہ آیا
چاند سورج ترے ، ہر ایک ستارہ تیرا

اشتہارات