اردوئے معلیٰ

جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا

سامنے آنکھ کے کب گنبدِ خضرا ہوگا

 

دیکھئے ملتا ہے کب اذنِ حضوری مجھ کو

جانے کب میرا سفرِ جانب بطحا ہوگا

 

جو بھی سرکار کے دامن سے ہوا وابستہ

وہ کبھی محفلِ دنیا میں نہ رسوا ہوگا

 

کب میں دیکھوں گا وہ روضے کی سنہری جالی

کب مقدّر میں مرے وقت سنہرا ہوگا

 

محفلِ نعت اسی طرح سجائے رکھئے

ایک دن سرورِ کونین کا پھیرا ہوگا

 

ہے یقیں وہ کبھی رحمت سے نہ ہوگا محروم

جس نے سرکارِ دو عالم کو پکارا ہوگا

 

نامِ سرکار ہے سرمایۂ دین ودنیا

زیرِ مدفن بھی یہی نام وظیفہ ہوگا

 

جب نقابِ رُخ روشن وہ اُٹھے گی یامین

بزمِ کونین میں ہر سمت اُجالا ہوگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات