جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

ہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیں

 

ایک شعلہ سا اٹھا تھا دل میں

جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں

 

ایک نغمہ سا سنا تھا میں نے

کون تھا شعلہ نوا یاد نہیں

 

روز دہراتے تھے افسانۂ دل

کس طرح بھول گیا یاد نہیں

 

اک فقط یاد ہے جانا ان کا

اور کچھ اس کے سوا یاد نہیں

 

تو مری جان تمنا تھی کبھی

اے مری جان وفا یاد نہیں

 

ہم بھی تھے تیری طرح آوارہ

کیا تجھے باد صبا یاد نہیں

 

ہم بھی تھے تیری نواؤں میں شریک

طائر نغمہ سرا یاد نہیں

 

حال دل کیسے تبسمؔ ہو بیاں

جانے کیا یاد ہے کیا یاد نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
سمجھ تو سکتے نہیں تُم نوائے خلقِ خُدا
یاد رکھ ، خُود کو مِٹائے گا تو چھا جائے گا
بدن میں دل کو رکھا ہے بنا کے خانہِ عشق
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں