جاں فزا ہے باغِ جنت سے ہواے کوئے دوست

جاں فزا ہے باغِ جنت سے ہوائے کوئے دوست

ہے مُشامِ ذہن و دل میں ہر گھڑی خوشبوئے دوست

 

خواب ہی میں دیکھ لوں گر جلوۂ نیکوئے دوست

ہر نفس قائم رہے پھر دل میں میرے بوئے دوست

 

جن کو قسمت سے ملی پُشتوں تلک مہکا کیے

ایسی خوشبو ہے بسی درمیاں گیسوئے دوست

 

یاخدا! مقبول فرما لے دعاے خستہ جاں

ہے تمنّا رُویا میں ہو دیٖدِ حُسنِ روئے دوست

 

دشمنِ جاں کو دعاوں سے نوازا آپ نے

ہاں نرالی اس قدر ہر ایک سے ہے خوئے دوست

 

اُن کی مدحت کا بیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں

خود خداے پاک قرآں میں ہے مدح گوئے دوست

 

ہے یقیں مقبول ہو گی مجھ مُشاہدؔ کی دعا

کیوں کہ میرے دل میں ہے چھایا خیالِ موئے دوست

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ذکرِ نبیؐ اسرارِ محبت ، صلی اللہ علیہ و سلم
جب قلم سے کچھ بدست کبریا لکھا گیا
اک نظر بر حالِ ما آقائے من پیارے نبی
جہانِ جود و سخا میں نہیں ہے اس کا بدل
دلوں پہ یہ جو اثر گفتگو سے چھایا ہے
پہلے رحمت کو محبت کے لئے پیدا کیا
ہر گام مدینے میں ایسے انوار دکھائی دیتے ہیں
کسی کی ہے یہ تمنا نصیب میں اس کے
ایسا شہ پارہ مجسم کر دیا خلاق نے
مونس و ہمدم و غمخوار مدینے والے

اشتہارات